مرد
اور عورت اللہ کے تخلیقی راز و نیاز ہیں۔ مگر ہزارہا سال سے زمین پر عورت کے بجائے
مردوں کی حکمرانی ہے۔ عورت کو ہمیشہ صنف نازک کا درجہ دیا گیا۔ صنف نازک کا مطلب
ہمیشہ یہ لیا جاتا رہا کہ عورت وہ کام نہیں کرسکتی جو کام مرد کرسکتا ہے۔ عورت
انسانیت کا تقریباً نصف حصہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے عورت کو فطرتاً مہر و وفا، شرم و
حیا، نازک اندام اور لطافت کی پیکر بنایا ہے۔ جسمانی اعتبار سے کمزور ہونے کی
حیثیت سے وہ ہمیشہ مردوں کے ظلم و ستم، زیادتی
اور استحصال کا شکار ہوتی رہی ہے۔ یہ صورت حال تاریخ کے ہر دور میں دہرائی
جاتی رہی ہے۔ ابتدا میں مرد نے عورت کو دیوی تسلیم کیا،اسکی پرستش کی اور اسکی
فرمانبرداری میں جھکے رہے اور بالآخر
عورت کو اس کے منصب سے علیحدہ کرکے مرد دیوتاؤں کو بٹھا دیا گیا۔ کبھی عورت کی
خرید و فروخت ہوتی اور اسکی عصمت کا سودا کیا جاتا اور کبھی اسکی اتنی تذلیل کی
جاتی کے اسے زندہ دفن کردیا جاتا۔ آج کے اس ترقی یافتہ دور میں بھی عورت کی تذلیل
کی جا رہی ہے جیسا کہ ماضی میں ہوتا رہا ہے اور یہ سب کچھ ترقی اور آزادی کے نام
پر کیا جا رہا ہے۔
محسنِ
انسانیت رسول اللہﷺ جب اس دنیا میں تشریف لائے اس وقت دو طبقے سب سے زیادہ مظلوم
اور قابل رحم تھے۔ ایک غلام اور دوسرے عورت۔ اللہ تعالیٰ نے یوں تو آپﷺ کو تمام انسانیت کے لئے ابرِ رحمت بناکر بھیجا۔ آپﷺ
نے انسان کو ظلم و نا انصافی سے نجات دلانے کی کوشش کی بالخصوص خواتین کے ساتھ حسن
سلوک کی تلقین فرمائی۔ آپﷺ نے ایسا نظامِ قانون انسانیت کو دیا جس میں ہر مرحلہ پر خواتین کے حقوق کو خصوصی اہمیت دی
گئی۔ قرآن مرد و عورت کو مساوی حقوق دیتا ہے۔ دونوں میں صلاحیتیں موجود ہیں۔ اگر
مرد کسی صلاحیت میں عورت سے قدرے زیادہ ہے تو مرد کئی صلاحیتوں میں عورت سے کم بھی
ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں
’’بے
شک مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں، سچے مرد،سچی عورتیں، صبر کرنے والے مرد، صبر
کرنے والی عورتیں اور عاجزی کرنے والے مرد، عاجزی کرنے والی عورتیں، خیرات کرنے
والے مرد، خیرات کرنے والی عورتیں، روزہ رکھنے والے مرد، روزہ رکھنے والی عورتیں،
اپنی عصمتوں کی حفاظت کرنے والے مرد، اپنی عصمتوں کی حفاظت کرنے والی عورتیں اور
اللہ کو بہت یاد کرنے والے مرد اور اللہ کو بہت یاد کرنے والی عورتیں ان سب کے
لئےاللہ تعالیٰ نے بخشش اور بڑا اجر تیار کر رکھا ہے۔‘‘ (سورۂ احزاب :35)
قرآن
میں جو صفات مردوں کے لئے بیان ہوئی ہیں وہی صفات عورتوں کے لئے بھی بیان ہوئی
ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ کے نزدیک عورت کا مقام مرد سے کم تر ہوتا اور اسکی بزرگی و
عظمت مرد کے مساوی نہ ہوتی تو قرآن میں ’’سورۂ مریم‘‘ حضرت مریم ؑ کے بجائے حضرت
عیسیٰؑ سے منسوب ہوتی۔ سورۂ النسا کا نام سورۂ النسا ہونا خود عورت کی فضیلت ہے۔
قرآن عورت اور مرد میں کوئی تفریق نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو خلافت عطا
کی ہے۔ نیابت و خلافت کا یہ اعزاز انسان کو بلا تفریق جنس عطا کیا گیا ہے۔ اللہ
تعالیٰ فرماتے ہیں ’’اور بلاشبہ ہم نے عزت بخشی بنی آدم کو، اور ان کو طرح طرح کی
سواریوں سے نوازا خشکی میں بھی اور تری میں بھی اور ہم نے ان کو روزی کا سامان کیا
طرح طرح کی پاکیزہ چیزوں سے اور ان کو اپنی بہت سی مخلوق پر طرح طرح کی فضیلت
بخشی۔‘‘ (سورۂ بنی اسرائیل:70) اس آیت مبارکہ
میں آدم ؑ کی تمام اولاد کا ذکر ہورہا ہے خواہ وہ مرد ہو یا عورت اس میں اللہ
تعالیٰ نے کوئی تفریق نہیں کی۔
اللہ
تعالیٰ نے جب آدمؑ کو جنت میں بھیجا تو فرمایا
’’
اور اے آدم! تم اور تمہاری بیوی جنت میں رہو، پھر کھاؤ جہاں سے چاہو، اور پاس نہ
جانا اس درخت کے، ورنہ تم ظالموں میں سے ہوگے۔‘‘ (سورۂ الاعراف:19)
اللہ
تعالیٰ نے جنت عطا کرنے میں مرد و عورت میں کوئی امتیاز نہیں رکھا۔ دونوں سے ہی
بھول ہوئی، دونوں کو اپنی کوتاہی پر ندامت ہوئی، دونوں معافی کے خواستگار ہوئے اور
اللہ تعالیٰ نے دونوں کی توبہ کو قبول فرمایا اور جنت سے دنیا میں اتارا۔
اللہ
تعالیٰ عورت کی عظمت کو یوں بیان فرماتے ہیں
’’ اور ہم نے انسان کو تاکید کی کہ اپنے والدین
کے ساتھ حسن سلوک کرو۔ اسکی ماں نے مشقت اٹھا کر اس کو پیٹ میں رکھا اور مشقت اٹھا
کر ہی اس کو جنا اور اسکے حمل اور دودھ چھڑانے میں تیس مہینے لگ گئے۔‘‘ (سورۂ
احقاف:15)
اللہ تعالیٰ ماں بننے کے عمل کی عظمت اور اہمیت
کو تسلیم کرتے ہوئے عورت کو اس حوالے سے انتہائی اعلیٰ اور ارفع مقام عطا کرتے
ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک برتری کا معیار
صرف اور صرف تقویٰ ہے۔ جنس، رنگ، نسل، اور مال و دولت برتری کا معیار نہیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
’’ اے لوگو! ہم نے تمہیں ایک مرد اور عورت سے
پیدا کیا پھر تمہاری قومیں اور برادریاں بنادیں تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو۔ اللہ
کے نزدیک تم سب میں با عزت وہ ہے جو متقی ہے۔ بلاشبہ اللہ سب کچھ جاننے والا اور
باخبر ہے۔‘‘ ( سورۂ الحجرات:13)
ہر
زمانے میں اس بات پر بحث ہوتی رہی ہے کہ عورت میں روحانی صلاحتیں موجود نہیں ہیں
یا عورت مرد کے مقابلے میں کم ہے۔ مرد کو فضیلت حاصل ہے جبکہ مرد و عورت کی روح
ایک ہے، جذبات و احساسات ایک ہیں، جسمانی و روحانی صلاحتیں کم و بیش ایک جیسی ہیں۔
دل، دماغ، ناک، کان اور جسمانی اعضا میں مماثلت پائی جاتی ہے جبکہ قرآن بھی وضاحت
کرتا ہے کہ مرنے کہ بعد جزا کا حصول صرف جنس پر منحصر نہیں ہے بلکہ تقویٰ پر ہے۔
مرد ہو یا عورت وہی اللہ کے قریب ہوگا جو تقویٰ اختیار کرے گا تو پھر مرد کو فضیلت
کیوں حاصل ہے۔ اللہ تعالیٰ عورتوں کے حقوق اور مرد کی فضیلت کو یوں بیان فرماتے
ہیں
’’ عورتوں کے لئے بھی معروف طریقے پر ویسے ہی
حقوق ہیں جیسے مردوں کے حقوق ان پر ہیں۔ البتہ مردوں کو ان پر ایک درجہ حاصل ہے
اور اللہ زبردست حکمت والا ہے۔‘‘ (سورۂ البقرہ؛228)
اس آیت میں مردوں اور عورتوں کے یکساں حقوق بیان
کئے گئے ہیں۔ البتہ ایک اور بات بیان کی گئی ہے کہ مردوں کو عورتوں پر ایک درجہ
یعنی فضیلت حاصل ہے۔ اس آیت کا مردوں نے ہمیشہ ناجائز فائدہ اٹھایا ہے اور اپنی
فضیلت کو برقرار رکھنے کے لئے عورتوں کو محکوم بناکر رکھا اور ان پر ظلم و ستم کئے
جبکہ اللہ تعالیٰ مردوں کی فضیلت کی بابت ایک اور جگہ ارشاد فرماتے ہیں کہ
’’ مردوں کو فضیلت ہے عورتوں کے اوپر۔ بعضوں کو
بعض پر فضیلت ہے اور اس بنا پر کہ وہ اپنا مال خرچ کرتے ہیں۔‘‘ (سورۂ النسا:34)
اس آیت میں یہ بات غور طلب ہے کہ سب مردوں کو
فضیلت حاصل نہیں ہے۔ بعض مردوں کو بعض عورتوں پر ہے وہ بھی اس لئے کہ وہ ان پر
اپنا مال خرچ کرتے ہیں، مزدوری کرتے ہیں، بچوں کی پرورش کا انتظام کرتے ہیں، عورتوں
کو تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ یعنی عورتوں کی نسبت مردوں کی ایک درجہ ذمہ داری زیادہ
ہے۔
قرآن
کی عملی تفسیر محمد الرسول اللہ ﷺ نے عورت کو بہت عزت مندانہ مقام عطا کیا ہے۔آپﷺ
نے ایک ایسے معاشرے کو تشکیل دیا جس میں مرد اور عورت انسانیت اور معاشرے کے دو
ستون قرار پائے۔ آپﷺ کے دور میں خواتین صرف امورِ خانہ داری ہی میں مصروف نہ رہتیں
بلکہ وہ سماجی، معاشی، معاشرتی اور روحانی سرگرمیوں میں انفرادی اور اجتماعی طور
پر بھر پور حصہ لیتی تھیں۔ خواتین نا صرف تعلیم کے میدان میں آگے بڑھیں بلکہ ادب،
تبلیغ، طب و حکمت، تجارت، شجاعت، مشاورت اور سیاسی امور میں بھی اپنا لوہا منوایا۔
رسول
اللہ ﷺ کے گھرانہ میں امہات المومنین اور بناتِ رسولﷺ نا صرف علم و ادب سے واقفیت
رکھتی تھیں بلکہ روحانی علوم کی ترویج کے لئے ہمیشہ آپﷺ کے ساتھ قدم بہ قدم رہیں۔
اس کے علاوہ ایسی صحابیاتؓ اور تابعین خواتین بھی ہیں جومحدثہ، فقیہہ، معلمہ، مفتیہ، اور کاتبہ کہلائیں۔ امہات المومنین حضرت عائشہؓ اور حضرت امِ سلمہؓ
کے علاوہ حضرت حفصہؓ، حضرت میمونہؓ، حضرت جویریہؓ، حضرت ام حبیبہؓ اور آپﷺ کی
صاحبزادی حضرت فاطمۃ الزہرہؓ حدیث و تفسیر اور دیگر علوم میں اسکالر کی حیثیت
رکھتی ہیں۔ کئی صحابیاتؓ نے درس و تدریس اور تربیت کا باقاعدہ انتظام کر رکھا تھا
جہاں خواتین کو قرآن کی تعلیم کے ساتھ ساتھ معاشرے میں انکے حقوق بتائے جاتے اور
انکی تربیت کی جاتی۔ آپﷺ کی خالہ اُمِ
سلیمؓ بنت ملحان، سمرہ بنت نہیک اسعدیہ اور اسماؓ بنت سکن مختلف شہروں میں جاکر
لیکچرز دیا کرتی تھیں۔ حج کے دوران حضرت عائشہؓ کوہِ حرا اور ثبیر کے درمیان کیمپ
میں درس و تدریس کیا کرتی تھیں۔ جوق در جوق خواتین ان کے لیکچرز سننے آیا کرتیں
اور ان سے علمی و دینی مسائل کے متعلق گفتگو کرتیں۔ حضرت خنساؓصاحب دیوان خاتون
تھیں۔ مرثیہ نگاری اور شعر گوئی میں ان کا کوئی ثانی نہ تھا۔
صحابیات
باطنی علوم میں بھی دسترس رکھتی تھیں۔ حضرت شفاؓ بنت عدویہ کا شمار ان خواتین میں
ہوتا ہے جولکھنا پڑھنا جانتی تھیں اسکے علاوہ مختلف امراض میں مبتلا افراد آپ کے
پاس روحانی علاج کے لئے آیا کرتے تھے۔آپ زہریلے کیڑوں کے کاٹے کی جگہ دم کیا کرتیں
تو مریض ٹھیک ہوجاتا۔ حضرت اسما ؓ بنت عمیسؓ خواب کی تعبیر کا علم جانتی تھیں۔
حضرت عمرؓ اور دیگر صحابہؓ اسماؓ سے اکثرخواب کی تعبیر دریافت کیا کرتے تھے۔ خواب
کی تعبیر پر لکھی گئی کتاب ’’تعبیر الرویا‘‘ کے مصنف ابن سیرین نے یہ علم ابن
المسیب سے لیا تھا جو حضرت اسماؓ بنت عمیسؓ کے شاگرد تھے۔
حضرت
ام شریکؓ مبلغہ ہونے کے ساتھ ساتھ سماجی کارکن تھیں۔ لوگوں کو کھانا کھلاتیں۔ ان
کا گھر دور سے آنے والے وفود اور غریب لوگوں کی کفالت کا مرکز تھا۔ ام المومنین
حضرت سودہؓ اور حضرت زینبؓ بنت حجش اپنی کاروباری آمدنی کا بیشتر حصہ لوگوں کی
امداد میں خرچ کرتی تھیں۔ حضرت اسماؓ بنت یزید بن سکن انصاریہ عہد نبویﷺ میں
خواتین کی ترجمان اور نمائندہ تھیں۔ خواتین اپنے انفرادی و اجتماعی مسائل کے حل کے
لئے آپ سے رجوع کیا کرتی تھیں۔
محمد
الرسول اللہﷺ ریاست کے سیاسی و حکومتی مسائل کے حل کے لئے صاحب فہم صحابہؓ سے
مشاورت کیا کرتے۔ اس مجلس شوریٰ میں صحابہؓ کے ساتھ ساتھ صحابیاتؓ بھی شامل ہوتیں۔
حضرت شفاؓ بنت عدویہ کو مشاورت کے لئے خاص طور پر طلب کیا جاتا اور ان کی رائے کا
احترام کیا جاتا تھا۔ حضرت عمر فاروقؓ کے دور تک آپ سیاسی مشیر کی حیثیت سے خدمات
سر انجام دیتی رہیں۔ حضرت اُم ہانیؓ نے فتح مکہ کے موقع پر حضور علیہ الصلوٰۃ
والسلام اور مشرکین کے درمیان سفیر کا کردار ادا کیا۔ حضرت فاطمہؓ بنت قیس بھی سیاسی مشاورتی کمیٹی
میں شامل تھیں۔ مجلس شوریٰ کے اکثر اجتماعات آپ کے گھر میں منعقد ہوا کرتے تھے۔
حضرت
اُم عمارہؓ نے غزوۂ احد، غزوۂ حنین اور غزوۂ خیبر میں نہایت بہادری کے ساتھ
کفار کا مقابلہ کیا۔ تاریخ آپ کو خاتونِ احد کے نام سے یاد کرتی ہے۔حضرت اسماؓ بنت
یزید ، اُم حکیمؓ، آپﷺ کی پھوپھی حضرت صفیہؓ، اسماؓ بنت ابوبکرؓ، اُم سلیمؓ، اُم
ربانؓ، حضرت جویریہؓ، لبنیٰ بنت سوارؓ اور ربیعؓ بنت معوذ کے شجاعت اور بہادری کے
واقعات تاریخ میں رقم ہیں۔
رسول
اللہﷺ نے خواتین کو یہ حق عطا فرمایا کہ وہ انفرادی طور پر کاروبار اور معاشرتی
روابط قائم کرسکتی ہیں۔ جائداد رکھ سکتی ہیں۔ام المومنین حضرت خدیجہؓ کی مثال
ہمارے سامنے ہے کہ آپ تاجر کے ساتھ ساتھ سرمایہ کار بھی تھیں۔ آپﷺ کی بعثت کے بعد
بھی حضرت خدیجہؓ کی کاروباری سرگرمیاں جاری رہیں۔ عہد نبویﷺ میں خواتین کو جو حقوق
و مراعات دی گئیں ان میں جسم و جاں کی حفاظت اور آزادیٔ اظہارِ رائے بھی شامل تھا۔
خواتین کو یہ حق حاصل تھا کہ وہ شادی کے لئے اپنی پسند و نا پسند کا اظہار کرسکیں۔
قرآن
او ر محمد الرسول اللہﷺ کی تعلیمات نے
خواتین کو جو حقوق دئیے ہیں وہ بہت وسیع ہیں۔ آج بھی خواتین ہر شعبے میں نمایاں
کردار ادا کر رہی ہیں اور ہر جگہ ان کی نمائندگی ہے۔ اصل مسئلہ ہماری جہالت، دین
اور قرآن سے لاعلمی ہے۔ جسکی وجہ سے خواتین ظلم و ستم کا شکار ہیں اور اپنے حقوق
سے محروم ہیں۔ اس مسئلے کا واحد حل بہرحال سیرتِ مصطفیٰ ﷺ کا مطالعہ اور قرآن پر
غور و فکر ہے۔ اب یہ خواتین کی ذمہ داری ہے کہ وہ اللہ اور انکے رسولﷺ کے دئیے
ہوئے حقوق سے واقف ہونے کے لئے قرآن پر غور و فکر کریں اور اپنی آنے والی نسلوں کو
یہ بتائیں کہ محسن انسانیت محمد الرسول اللہﷺ نے عورت کو غلامی سے نجات دلائی اور
معاشرے میں خواتین کے حقوق متعین کئے۔

0 comments:
Post a Comment