زمانۂ
جاہلیت میں عورت کو انسان اور حیوان کے درمیان کی ایک مخلوق سمجھا جاتا تھا۔ جس کا
کام نسل انسانی کی پیدائش اور مرد کی خدمت و اطاعت کرنا تھا۔ لڑکیوں کی پیدائش ذلت
و رسوائی سمجھی جاتی تھی اسے پیدا ہوتے ہی زندہ دفن کردیا جاتا تھا۔ ہر جگہ عورتیں
مردوں کے ظلم و ستم اور استحصال کا شکار تھیں۔ جانوروں کی طرح عورت کی خرید و
فروخت ہوتی، قید و بند میں رکھا جاتا، ناک میں نکیل ڈالی جاتی، ہاتھوں میں
ہتھکڑیاں پہنائی جاتیں اور پیروں میں بیڑیاں ڈالی جاتیں۔ اسلام سے قبل دوسرے خطوں
کی طرح عرب میں بھی عورت مظلومیت کا پیکر تھی۔ عربوں نے اس بات کو فراموش کردیا
تھا کہ عورت کے بھی کچھ حقوق ہوتے ہیں۔ عورت ہی ہر مرد کی ماں ہے۔ عورت کی زندگی
کا مقصد صرف یہ تھا کہ وہ مرد کی اطاعت کرے۔ مرد کی موجودگی میں عورت کا بیٹھنا
منع تھا۔ اپنی رائے کا اظہار کرنا منع تھا۔ اپنی اور اپنی اولاد کی زندگی کے فیصلے
کرنے کا اختیار نہ تھا۔ معمولی سا قصور موجب قتل بن جاتا تھا۔ عرب میں لڑکیوں کو
زندہ دفن کرنا عام تھا۔ مرد بیٹی کے وجود کو اپنی ذلت سمجھتے تھے۔ باپ بیٹی کو جب
زندہ دفن کر آتا تو مجلس میں خوشی اور فخر کا اظہار کرتا۔ اسلام سے قبل جہاں
خواتین کے دیگر حقوق کا استحصال کیا گیا وہاں خواتین کو معاشی حقوق سے بھی محروم
رکھا جاتا۔ وراثت میں خواتین کا کوئی حصہ نہ تھا۔ خواتین معاشی طور پر بدحالی کا
شکار تھیں اور مردوں کے رحم و کرم پر تھیں۔ آج کے اس ترقی یافتہ دور میں بھی
خواتین معاشی استحصال کا شکار ہیں۔
زمانۂ
جاہلیت کےبرعکس، اسلام نے عورت کو برابری کے وہ تمام حقوق عطا کئے جو مرد کو حاصل
ہیں۔ قرآن عورت کو بیٹی، بہن، بیوی اور ماں کے روپ میں ان کا مرتبہ اعلیٰ و ارفع
کرکے انہیں تمام سماجی، معاشی، قانونی، مذہبی اور تعلیمی حقوق عطا کرتا ہے۔ اللہ
تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں
’’ عورتوں کے لئے بھی معروف طریقے پر ویسے ہی
حقوق ہیں جیسے مردوں کےحقوق ان پر ہیں‘‘ (سورۂ البقرۃ:228)
محسنِ
انسانیت محمد الرسول اللہ ﷺ نے خواتین کو تمام شعبوں میں مردوں کے مقابلے میں
برابری کے حقوق عطا کئے۔ آپﷺنے خواتین کے لئے معاشی طور پر جو اصول و ضابطے وضع
کئے اسکی مثال تاریخ میں ہمیں نہیں ملتی۔
اسلام
سے قبل دنیا کے اکثرمذاہب میں خواتین کا میراث میں کوئی حق نہ تھا۔ اسلام نے سب سے
پہلے وراثت میں خواتین کو ان کا حق عطا کیا۔ قرآن نے یہ ثابت کیا کہ ملکیت اور
وراثت میں صرف مردوں کا ہی حق نہیں بلکہ عورت بھی اسمیں برابر کی شریک ہے۔ اللہ
تعالیٰ میراث سے متعلق قرآن میں ارشاد فرماتے ہیں
’’
مردوں کے لئے اس مال میں حصہ ہے جو ماں باپ اور قریبی رشتہ داروں نے چھوڑا ہو، اور
عورتوں کے لئے بھی اس مال میں حصہ ہے جو ماں باپ اور قریبی رشتہ داروں نے چھوڑا
ہو، تھوڑا ہو یا بہت یہ حصہ مقرر ہے۔ (سورۂ النسا:7)
عام
طور پر کہا جاتا ہے کہ میراث میں عورت کا حصہ مرد سے آدھا ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد
فرماتے ہیں
’’ اللہ تعالیٰ تمہاری
اولاد کے بارے میں ارشاد فرماتا ہے کہ ایک لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے حصے کے برابر
ہے اور اگر صرف لڑکیاں ہی ہوں (یعنی دو یا) دو سے زیادہ تو کل ترکے میں انکا دو
تہائی اور اگر صرف ایک لڑکی ہو تو اس کا حصہ نصف۔ اور میت کے ماں باپ کا یعنی
دونوں میں سے ہر ایک کا ترکے میں چھٹا حصہ بشرطیکہ میت کے اولاد ہو اور اگر اولاد
نہ ہو اور صرف ماں باپ ہی اس کے وارث ہوں تو ایک تہائی ماں کا حصہ اور اگر میت کے
بھائی بھی ہوں تو ماں کا چھٹا حصہ۔ (اور یہ تقسیم ترکہ میت کی) وصیت (کی تعمیل) کے
بعد جو اس نے کی ہو ۔ یا قرض کے (ادا ہونے کے بعد جو اس کے ذمے ہو عمل میں آئے گی)
تم کو معلوم نہیں کہ تمہارے باپ دادوں اور بیٹوں، پوتوں میں سے فائدے کے لحاظ سے
کون تم سے زیادہ قریب ہے۔ یہ حصے اللہ کے مقرر کیے ہوئے ہیں اور اللہ سب کچھ جاننے
والا اور حکمت والا ہے۔‘‘ ( سورۂ النسا:11)
یعنی
بیشتر صورتوں میں میراث میں خواتین کا حصہ مردوں کے مقابلے میں آدھا ہے لیکن ہر
صورت میں ایسا نہیں۔اگر مردوں کا حق عورتوں سے زیادہ یا دگنا رکھا گیا ہے تو اسے
مردوں اور عورتوں کے درمیان جنس کی بنیاد پر تفریق نہیں سمجھنا چاہیے بلکہ یہ اس
اصول پر مبنی ہے کہ جس کی ذمہ داری زیادہ ہوگی اس کے حقوق بھی زیادہ ہونگے اس کے
برخلاف جس کی ذمہ داری کم ہوگی اس کے حقوق بھی کم ہونگے۔ اس اصول کو رسول اللہ ﷺ
نے اپنے ایک ارشاد سے واضح فرمایا: ’’الخراج بالضمان‘‘ یعنی جو نقصان کو اٹھائے گا
وہی فائدے کا بھی حقدار ہوگا۔ اگر عورت میراث میں آدھا یا کم حصہ پاتی ہے تو بھی
فائدے میں ہے۔ مثال کے طور پر ایک صاحب فوت ہوگئے۔ ورثا میں ایک بیٹا اور ایک بیٹی
چھوڑ گئے۔ جائداد میں سے باقی تمام حقوق اور قرض ادا کرنے کے بعد دونوں اولادوں کے حصہ میں 15 لاکھ روپے آئے۔ جس میں سے 10لاکھ بیٹے کے حصے میں اور 5لاکھ بیٹی کے حصے میں آئے۔بظاہر بیٹی کے حصہ میں بیٹے کی نسبت کم رقم آئی۔
لیکن دوسری طرف دیکھا جائے تو حصہ ملنے کے بعد بیٹے کے حصہ میں جو رقم آئی اس سے
وہ پورے خاندان کی ضروریات کو پورا کرتا ہے۔ اگر اس کی بیوی ہے وہ اس پر بھی خرچ
کرتا ہے، بچوں پر بھی خرچ کرتا ہے، ماں اور بہن پر بھی خرچ کرتا ہے۔ یہ ذمہ داری
اسلام نے اس پر عائد کی ہے۔ ممکن ہے 80-90فیصد
رقم یا شاید پوری ہی رقم وہ ذمہ داریوں کی نظر کردے جبکہ بیٹی کے حصہ میں جو رقم
آئی اسلام اس میں سے اس کا ایک روپیہ بھی خاندان پر خرچ کرنے کی ذمہ داری عائد
نہیں کرتا۔ بلکہ اس کی ذاتی ضروریات اور
اخراجات کی ذمہ اری بھی مرد پر عائد کی گئی ہے۔ اب جو رقم اسے حاصل ہوئی وہ اسے
اپنی ذات پر خرچ کرسکتی ہے، کاروبار میں
لگا کر اسے دگنا یا تین گنا کرسکتی ہے جسکی اسلام میں قطعاً ممانعت نہیں۔ حضرت
خدیجہ الکبریٰ ؓ کی مثال ہمارے سامنے موجود ہے جو مکہ کی مالدار ترین اور کاروباری
اور سرمایہ دار خاتون تھیں۔ اس لیے خواتین میراث میں آدھا حصہ ملنے کے باوجود
فائدہ میں ہیں۔
اسلام
نے بنیادی طور پر خواتین سے متعلق اخراجات کی ذمہ داری مردوں پر عائد کی ہے۔اللہ
تعالیٰ قرآن میں ارشاد فرماتے ہیں ک
’’ مردوں کو فضیلت ہے عورتوں کے اوپر۔ بعضوں کو
بعض پر فضیلت ہے اور اس بنا پر کہ وہ اپنا مال خرچ کرتے ہیں۔‘‘ (سورۂ النسا:34)
اللہ تعالیٰ نے مردوں کو عورتوں پر اس لئے فضیلت
دی کہ وہ ان پر اپنا مال خرچ کرتے ہیں، مزدوری کرتے ہیں، بچوں کی پرورش کا انتظام
کرتے ہیں، عورتوں کو تحفظ فراہم کرتے ہیں،انکی ضروریات کو پورا کرتے ہیں اور ان کے
نفقہ کے ذمہ دار ہیں۔ نفقہ میں بنیادی طور پر چار چیزیں شامل ہیں خوراک، پوشاک،
علاج اور رہائش۔ جہاں تک خوراک کی بات ہے
تو ظاہر ہے کہ اس کی مقدار اور معیار کو پوری طرح مد نظر رکھا جائے گا۔ ہر انسان
کے ذوق و مزاج اور جسمانی ضروریات میں فرق ہوتا ہے، خوارک میں موسم کی رعایت بھی
ملحوظ رکھی جائے گی۔تمام چیزوں کو ملحوظِ خاطر رکھ کر عورت کو خوراک مہیا کرنا مرد
کی ذمہ داری ہے۔ اسی طرح لباس انسان کی ایک اہم ضرورت ہے جس کا مقصد جسم کو چھپانا
اور اسے موسم کے اتار چڑھاؤ سے بچانا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ لباس انسان کے لئے
زینت بھی ہے۔ پوشاک کی فراہمی میں یہ ضروری ہے کہ لباس ایسا ہو جو ستر کے تقاضوں
کو پورا کرتا ہو، سردی گرمی کی رعایت ہو اور اس دور کے مروجہ معیار کے مطابق زینت
و آرائش کے تقاضہ کو پورا کرتا ہو اسکے علاوہ اتنی مقدار میں ہو کہ عورت پورے سال
مناسب طریقے پر اپنے پہننے اوڑھنے کی ضرورت کو پورا کرسکے۔ سیدنا حضرت عائشہؓ کے بعض کپڑے ایسے تھے کہ
دلہن بنانے کے لئے لوگ اسے حاصل کرتے تھے، اس سے صاف ظاہر ہے کہ خواتین میں چونکہ
فطری طور پر زیبائش و آرائش کا جذبہ زیادہ رکھا گیا ہے اور اسلام نے خواتین کو اس
کی رعایت بھی دی ہے اس لئے خواتین کے لباس میں اسے بھی ملحوظ خاطر رکھا جانا
چاہئے۔ بحیثیت انسان عورت بھی پیدائش سے
موت تک جہاں صحت مند ہوتی ہے وہاں وہ بیمار بھی ہوتی ہے۔ انسان کی بقا اور اس کی
زندگی کے تحفظ میں دوا وعلاج کی اہمیت غذا اور لباس سے بھی زیادہ ہے یقیناً علاج
بھی نفقہ میں شامل ہے جیسے خوارک اور پوشاک کا مہیا کرنا مرد کی ذمہ داری ہے، اسی
طرح علاج کا نظم کرنا بھی مرد کی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ نفقہ میں ایک اہم ضرورت
رہائش ہے۔ رہائش میں صرف مکان ہی نہیں ہے بلکہ وہ تمام چیزیں، جو رہائش کے لئے
ضرورت کا درجہ رکھتی ہیں، جیسے فرنیچر، موسم کی رعایت کرتے ہوئے بستر وغیرہ کا
نظم اور تمام ضروریات زندگی کی اشیا رہائش
کے دائرے میں آتی ہیں اور حسب گنجائش ان کا فراہم کرنا مرد کی ذمہ داری ہے۔
اسلام
میں والدین کو جو اہمیت حاصل ہے وہ محتاج اظہار نہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنی عبادات کے
ساتھ ساتھ والدین سے حسن سلوک کی تلقین کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں
’’ اور
تیرا پروردگار صاف صاف حکم دے چکا ہے تم اس کے سوا اور کسی کی عبادت نہ کرنا اور ماں
باپ کے ساتھ احسان کرنا۔ اگر تیری موجودگی میں ان میں سے ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ
جائیں تو ان کے آگے اف تک نہ کہنا، نہ انھیں ڈانٹ ڈپٹ کرنا بلکہ ان کے ساتھ ادب و احترام
سے بات کرنا۔ اور عاجزی اور محبت کے ساتھ ان کے سامنے تواضع کا بازو پست رکھے رکھنا اور دعا کرتے رہنا کہ اے میرے پروردگار ان پر ویسا
ہی رحم کر جیسا انہوں نے بچپن میں میری پرورش کی ہے۔‘‘ (سورۂ بنی اسرائیل :23-24)
ماں
کے احسانات کا اللہ تعالیٰ خاص طور پر ذکر فرماتے ہیں
’’
اور ہم نے انسان کو والدین کے متعلق تاکید کی ہے، اس کی ماں نے دکھ پر دکھ اٹھا کر
اسے حمل میں رکھا اور اس کی دودھ چھڑائی دو برس میں ہے کہ تو میری اور اپنے ماں باپ
کی شکر گزاری کر، آخر میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے۔‘‘ (سورۂ لقمان:14)
قرآن کی رو سے والدین کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید
کی گئی ہے۔ ظاہر ہے حسن سلوک میں والدین کی بالخصوص ماں کی ضروریات کو پورا کرنا
بھی شامل ہے۔ ماں کا نفقہ بھی بیٹے کے ذمہ ہے
جس میں خوراک و پوشاک، علاج و رہائش، خادم کا نظم اور دیگر مالی ضروریات
شامل ہیں۔ اسی طرح عورت ہونے کے ناطے بہن اور بیٹی کا نفقہ بھی مرد کے ذمہ ہے۔
اسلام
نے جہاں عورت کو دیگر بے شمار حقوق دئیے
وہاں ایک حق، حق مہر کے لئے بھی باضابطہ قانون بنایا۔ اس قانون کی رو سے حق مہر کا
بنیادی مقصد بیوی کو تحفظ دینا ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں
’’
اور تم بیویوں کو ان کے مہر خوش دلی سے دے دیا کرو‘‘ (سورۂ النسا: 4)
قرآن
کی رو سے مہر ادا کرنا مرد پر لازم ہے۔ اللہ تعالیٰ ایک اور جگہ ارشاد فرماتے ہیں
’’اور
ان میں سے تم نے کسی کو خزانے کا خزانہ دے رکھا ہو تو بھی اس میں سے کچھ نہ لو۔‘‘
(سورۂ النسا:20)
اللہ تعالیٰ نے مہر سے متعلق ’’قنطار‘‘ کا لفظ
استعمال کیا ہے جس کے لغوی معنی ’’ سونے کے ڈھیر‘‘ کے ہیں جو کہ مہر میں دے دئے
گئے ہوں تو اس پر مرد حق نہیں رکھتا وہ صرف عورت کا حق ہے مرد اسے واپس نہیں لے
سکتا۔
آج
کے اس جدید دور میں مہر کی مقدار کا تعین کرتے ہوئے ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ قرآن
میں مہر سے متعلق ’’قنطار‘‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے ۔ ایک بار حضرت عمر فاروقؓ نے
دیکھا کہ لوگ بہت زیادہ مہر مقرر کرنے لگے ہیں تو آپؓ نے منبر پر کھڑے ہوکر فرمایا
’’ عورتوں کا مہر زیادہ نہ رکھو۔‘‘ جب آپؓ منبر سے نیچے اترے تو ایک خاتون نے کہا
کہ آپؓ نے یہ کیسے کہ دیا جب کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ’’قنطار‘‘ یعنی بہت سا
مال بطور مہر دے دو تو اسے واپس لینے کی کوشش نہ کرو۔ حضرت عمر فاروقؓ نے دوبارہ
منبر پر کھڑے ہو کر فرمایا’’ اے عمر! تجھ سے ہر شخص زیادہ سمجھدار ہے۔ جو چاہو مہر
مقرر کرو۔‘‘
سیدنا
حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا نکاح جب حضرت خدیجہؓ سے ہوا تو حضرت ابو طالب نے
خطبہ پڑھا جس میں انہوں نے کہاکہ ’’ میں اپنے مال میں سے ان کا مہر بیس اونٹ مقرر
کرتا ہوں اور میں اللہ کی قسم کھاکر کہتا ہوں کہ اس کہ بعد ان کی ایک عظیم الشان
اور بلند مرتبت ہوگی۔‘‘ حضرت خدیجہؓ کے چچا زاد بھائی ورقہ بن نوفل نے خطبہ پڑھا
اور کہا کہ’’ اے گروہِ قریشی! تم گواہ رہو کہ میں نے خدیجہؓ بنت خویلد کو محمدﷺ بن
عبداللہ کی زوجیت میں چار سو مثقال عوض مہر پر دیا۔ اس کا مطلب ہے کہ ان دنوں بیس
اونٹ کی قیمت چار سو مثقال یعنی پانچ سو درہم تھی۔ازواج مطہرات میں حضرت سودہؓ کا
مہر چارسو درہم ، حضرت عائشہؓ کا مہر پانچ سو درہم، حضرت حفصہؓ کا مہر چارسو درہم،
حضرت جویریہؓ کا مہر چارسو درہم، حضرت ام حبیبہؓ کا مہر چار سو درہم اور حضرت
میمونہؓ کا مہر چار سو درہم مقرر کیا گیا۔آپﷺ کی چہیتی صاحبزادی اور لخت جگر حضرت
فاطمہؓ کا مہر تقریباً چھ سو درہم مقرر کیا گیا۔ پانچ سو درہم، پانچ سو پچھتر(575) گرام سونے کے برابر ہیں جو کہ
پاکستانی زرمبادلہ میں تقریباً پچیس لاکھ(25,00,000) روپے بنتے ہیں۔محمد الرسول اللہﷺ کی وہ ازواج مطہرات جن کا مہر
چار سو درہم مقرر کیا گیا وہ چار سو ساٹھ(460) گرام سونے کے برابر یعنی پاکستانی زرمبادلہ میں تقریباً بیس لاکھ
چوبیس ہزار(20,24,000) روپے بنتے
ہیں۔ جبکہ آپﷺ کی لخت جگر حضرت فاطمہ کا مہر چھ سو درہم جو کہ چھ سو نوے(690) گرام سونے کے برابر یعنی
پاکستانی زرمبادلہ میں تقریباً تیس لاکھ چھتیس ہزار(30,36,000)روپے بنتے ہیں۔
آج
کل چونکہ کرنسی کی قیمت میں استحکام نہیں ہے۔ آج سے بیس سال پہلے پانچ ہزار روپے
کی اہمیت تھی لیکن آج اتنی رقم سے متوسط گھرانے کا گذر بسر مشکل ہے۔ ان حالات میں
مناسب طریقہ یہ ہے کہ مہر سونے یا چاندی میں مقرر کیا جائے۔ رسول اللہ ﷺ کے زمانے
میں درہم چاندی کا اور دینار سونے کا ہوا کرتا تھا، چونکہ سونے اور چاندی کی قیمت
میں آج بھی کسی قدر استحکام ہے اسی لئے
اگر آج پانچ تولہ سونا مہر مقرر کیا جائے جسکی قیمت تقریباًً ڈھائی لاکھ
روپے بنتی ہے، اگر اگلے بیس سال کے بعد بھی مہر ادا کیا جائے تو عورت کو پانچ تولہ
سونا حاصل ہوگا۔ اس کے برخلاف اگر آج
ڈھائی لاکھ روپے مہر مقرر کیا جائے تو ممکن ہے بیس سال بعد اس رقم سے ایک تولہ
سونا بھی حاصل نہ ہو۔ یہ عورت کے حق میں منصفانہ بات ہوگی۔
آج
سے چودہ سو سال قبل عہد جاہلیت میں محمد الرسول اللہﷺ کی انقلابی تعلیمات نے خواتین کو انکے حقیقی حقوق اور مراتب
عطا کئے۔ آپﷺ کی تعلیمات کا مقصد ہی یہ ہے کہ خواتین سے متعلق ہماری سوچ، ہمارے
خیالات، ہمارے احساسات اور ہماری طرز زندگی میں بہتری لائی جائے اور معاشرے میں
خواتین کا مقام بلند سے بلندتر کیا جائے ، جس کے لئے بہرحال ہمیں قرآن میں تفکر
اور سیرت پاکﷺ کا مطالعہ اپنانا ہوگا۔

0 comments:
Post a Comment